674

مجھے سورہ یوسف کی تفسیر بےحد پسند ہے یہ میرے دل کو ہلاتی ہے اور لگتا ہے مجھ سے کچھ کہہ رہی ہے بے انتہا پسندیدہ اور سبق آموز سورہ یوسف کی تفسیر جب جب سنی دل لرز کر رہ گیا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی, بلکل درست کہا کرتے تھے ہمارے بزرگ اللہ کے بھید اللہ ہی جانے اب سمجھ میں آتی ہے یہ بات , دل نے کہا کہ یہ آج آپ کے ساتھ شئیر کرنی چاہیے ان شااللہ دلوں میں نہ اتر جائے تو کہئے گا اللہ تبارک و تعالی اپنے کاموں میں مداخلت پسند نہیں کرتا وہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ھے ! یوسف کو بادشاہی کا خواب دکھایا ،، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا ! خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکر غم کا چلا دیا ! یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ہے ،،خوشبو نہیں آنے دی ! اگر خوشبو آ گئی تو باپ ہے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا ! باپ کو بذریعہ وحی سمجھا دونگا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رھا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے ! اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو ! یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، اِنا معَ العُسرِ یُسراً ،، جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا یوں شیطان بھی اللہ کی مصلحت کو نہ سمجھ سکا اور استعمال ہو گیا ،، اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو یوسف سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کے حکم کے مطابق بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا ،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں این آر او ” کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناھی ثابت نہ ھو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : اِنا راودتہ عَن نَفسہُ و انہ لِمَنَ الصادِقِین ،،، وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا ،، وہی قحط ہانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ،، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ، آپ نے فرمایا پہلے بھی تم میرا کُرتا لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کُرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کُرتا لے جاؤ ،، یہ وہ کھوئی ہوئی بینائی واپس لے آئے گا ! اب یوسف نہیں یوسف کا کُرتا مصر سے چلا ہے تو کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں، یعقوب چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون ،، تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں ” مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے اللہ اللہ سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئ ہے , واااااہ میرے پاک پرورگار تو جیسا چاہے ویسا کردے تیری ذات لاوحدہ لا شریک پہ بھلا کس کا اختیار ہے ؟ واللہ غالبٓ علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون ! اللہ جو چاہتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی ! یاد رکھیں آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر و عافیت کے احکامات کو ہی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ہو ،، انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ھیں، اللہ پاک سے ہمیشہ اپنے لیے خیر مانگیں ! اللہ پاک ہم سب کے حال پہ رحم و کرم بنائے رکھے اور ہمیں دنیا کی ہر بری چال سے محفوظ فرمائے ۔۔۔ آمین ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں